GAP Line

Main Banner

ہندوستانی شرح نمو میں 5 فیصد کمی ، سات سال میں بدترین انحطاط


پیداواری اور زرعی شعبے بری طرح متاثر ، دفتر قومی اعداد کی پہلے سہ ماہی پررپورٹ جاری
نئی دہلی ۔ /30 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی معیشت کے بارے میں جمعہ کو جاری سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2019-20 ء کے اپریل تا جون سہ ماہی کے دوران صنعتی پیداوار میں ہولناک کمی اور زرعی شعبہ کی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر سست روی کے نتیجہ میں ہندوستانی مجموعی گھریلو پیداوار کی شرح نمو میں 5 فیصد کمی ہوئی ہے ۔ یہ انحطاط گزشتہ سات سال کے دوران سب سے زیادہ ہے ۔ رپورٹ کے مطابق پیداواری شعبہ میں رواں مالیاتی سال کے پہلے سہ ماہی کے دوران 0.6 فیصد کی ہوئی ہے جس میں ایک سال قبل 12.1 فیصد وسعت ہوئی تھی ۔ اس طرح زرعی شعبہ میں مجموعی مشمول قدر ترقی 2 فیصد پر محدود رہی جو گزشتہ سال اس مدت میں 5.1 فیصد تھی ۔ تعمیراتی شعبہ میں بھی مجموعی مشمول قدر کی شرح نمو غیرمعمولی سست روی کے سبب 5.7 فیصد تک گھٹ گئی جو گزشتہ سال پہلی سہ ماہی میں 9.6 فیصد تھی ۔ البتہ کانکنی کے شعبہ میں شرح ترقی جو گزشتہ سال 0.4 فیصد تھی اونچی چھلانگ لگاتے ہوئے 2.7 فیصد تک پہونچ گئی ۔ قومی دفتر اعداد نے ان تفصیلات کو پیش کرتے ہوئے مزید بتایا کہ ’ مستقل (2011-12) جی ڈی پی شرحوں کا 2019-20 کے پہلے سہ ماہی کیلئے 35.85 لاکھ کروڑ روپئے کا تخمینہ کیا گیا جو 2018-19 ء کی پہلی سہ ماہی میں 34.74 لاکھ کروڑ روپئے تھا ۔ جس سے پانچ فیصد شرح نمو کا اظہار ہوتا ہے ۔ مجموعی معینہ مدت سرمایہ کی تشکیل (جی ایف سی ایف) جو سرمایہ کاری کی اکائی کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے ۔ (2011-12) کی مستقل اساس کا تخمینہ پہلی سہ ماہی کے دوران 11.66 لاکھ کروڑ روپئے کیا گیا جو ایک سال قبل پہلی سہ ماہی میں 11.21 لاکھ کروڑ روپئے تھا۔